“The Alternate Truths”

Set up in modern digital times where human interactions take new, unexpected paths, Wajeeh is about to witness a timeless/perpetual human emotion. Humans have evolved but have their emotions too? The question has been answered. Or maybe not.

Shereen's Blog

“I don’t know why I feel incomplete without loving new things and new people. I’m flowing towards infinity, new lovers and beloveds. You understand?” He looked her in the eyes and tried to search the echo of his emotions there. She didn’t say anything nor did her countenance betray her emotions. However, her rigid quietness gave him some perspective and he leaned towards her and whispered, “I feel you are an extension of me, one of my faces. In this moment I love you, I’m yours, command, and I’ll serve you.” That declaration made her take a long held breath and that was the only response. Few moments ago they were as closed to each other as two bodies could be. But her eyes kept the same firm icy coldness with which she regarded everything. He, despite his constant restlessness and fickle nature, wanted some response from her eyes. But…

View original post 3,122 more words

Advertisements

بلاگ اور بلاگر

یہ بلاگ صرف اس مقصد کیلئے چھاپ رہا ہوں تاکہ پتا لگے کہ میرے کتنے دوست بنا پڑھے میرے بلاگز کی واہ وا میں مصروف رہتے ہیں. 
جس جس نے اس بلاگ کو شئیر کیا یا تعریف کی،  اس کیساتھ آج سے دوستی ختم اور اِٹ کُتے کا ویر شروع ہو جائیگا. 

حقوقِ نسواں بل اور ھمارا اجتماعی مزاج

ملک کے مجموعی سیاسی اُفق پر آج کل تقریباً مطلع صاف ھے. حدِ نگاہ تقریباً دو سال ہے. لہذا برتن قلعی کروانے کا کاروبار مندے کا شکار تھا۔ ایسے میں پنجاب کی صوبائی حکومت نے موقع مناسب جانتے ھوئے ایک ایسے معاملے پر قانون سازی کی جسارت کر ڈالی جو کہ ھماری عظیم خاندانی روایات، اونچے شملے، بل دار مونچھوں اور دلوں میں موجزن غیرت کے کوہ ھمالیہ سے ھرگز میل نہیں کھاتا۔ لہذا دائیں بازو سے لیکر بائیں بازو اور سر تا پیر، ھر ایک شخص مخالفت کیلئے سینہ سپر ھوا چاھتا ہے. بِل کی مخالفت میں مندرجہ ذیل رائے دی جا رہی ھے

١. بِل کے باعث خاندانوں کا شیرازہ بکھر جائے گا اور لوگوں کی عزتیں جنہیں چار دیواری میں محفوظ ھونا چاھئیے، سڑکوں، تھانوں، کچہریوں میں خوار ہوتی دکھیں گی
٢۔ مذھب مرد کو عورت پر نگہبان قرار دیتا ہے لہذا عورت کو کسی بھی صورت برابری کا حق نہیں پہنچتا
ان آراء کو سچ ثابت کرنے کیلئے آجکل یہ واقعہ کثرت سے بیان کیا جارہاہے کہ ایک عورت نے پولیس میں ظالم شوھر کیخلاف درخواست کی. دو دن شوھر جیل رہا اور پھر واپس آتے ساتھ ھی اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی.
اس واقعے کو بنیاد بنا کر کہا جا رہا ہے کہ عورت کو کتنی بڑی سزا مل گئی کہ اب طلاق یافتہ ھو کر گھر بیٹھی ھے اور یہ کہ مرد کو کیا فکر وہ تو پھر سے اپنا گھر بسا لے گا۔
مجھے یہ واقعہ سن کر شائد اتنی تکلیف نہیں ھوئی جتنی اس واقعے سے اخذ کردہ نتائج پر ھوئی ھے۔

.سب سے پہلے ھم اس واقعے میں موجود حقائق پر ایک بار پھر نظر ڈالتے ھیں
١. عورت نے ایک ظالم شوھر کی شکایت کی.

٢. شوھر حوالات میں مقید رہا اور دو روز بعد عورت نے اپنی درخواست خاندانی دباؤ پر واپس لی

٣. شوھر نے باھر آ تے ساتھ ھی خاتون کو طلاق دے دی

واقعے کی پہلی حقیقت خاتون کا حفاظت کے حصول کیلئے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانا ھے. چند کیسز میں یہ ایک جذباتی، وقتی فیصلہ ھو سکتا مگر اکثریتی کیسز میں یہ اتنا آسان نہیں ھوگا. خاتون کا پولیس تک پہنچنا ھی یہ ثابت کرتا ھے کہ ھمارے معاشرتی نظام نے خاتون کو وہ حفاظت فراھم ھی نہیں کی جس کی وہ متقاضی تھی. اگر محکمہِ جنگلی حیوانات بھی کسی شخص کی ملکیت میں موجود ایک لائسنس یافتہ جنگلی جانور کو تکلیف دہ حالت میں دیکھے گا تو وہ اس شخص سے نہ صرف باز پرس کرے گا بلکہ اس کا لائسنس بھی معطل کر سکتا. مگر احبابِ ذی قدر یہاں ھم اس بحث میں الجھے ھیں کہ کسی کی ملکیتی بیوی اس کی ذاتی شے ھے اور کوئی اس کے بارے میں بیرونی دخل اندازی نہ کرے۔
گاؤں کا چوھدری اگر اپنے جانوروں کی دیکھ بھال چھوڑ دے تو گاؤں کے نیچ ذات بھی اس کی جانب جانا چھوڑ دیتے کہ اس کو توجانوروں کی فکر نہیں ھماری کیا فکر کرے گا. ھاں وہ چوھدری اپنی بیگم پر ظلم کرتا یا نہیں، اس کی پڑتال کا کسی کو حق نہیں. پس ثابت ھوا کہ قانون سازی کی ضرورت اس لئے پیش آ رہی ھے کہ معاشرے میں عورت کا مقام پالتو جانوروں سے بھی نیچے ھے۔

واقعے کی دوسری حقیقت خاندانی دباؤ پر درخواست واپس لینا ہے. یہ مسئلہ صرف اس نسواں بل تک محدود نہیں، ھماری عدالتی کُتب ایسے کیسز سے بھری پڑی ھیں جہاں مدعی آخر کار مصلحت کا شکار ہو جاتا. لہذا اس بات کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ فلاں قانون کسی قابل نہیں، شائد بےجا ھو گا. مسئلہ قانون میں نہیں، ھمارے گریبانوں میں ھے. ھم معاشرے کو اتنا گندہ کر چکے ھیں کہ اب ڈاکو بھی پکڑا جاتا تو اس کے لواحقین مدعی کے گھر بال بچوں سمیت آن دھمکتے اور پیر پڑ جاتے. اگر مدعی بوڑھی ماں کی چادر کا پاس نہ رکھے تو محلہ دار اور رشتہ دار مدعی کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے کہ اس کے دل میں  خوفِ خدا نہیں.
واقعے کا آخری حصہ، دو دن میں طلاق مل جانا تھا. مجھے جو سب سے اچھی بات لگی، وہ یہ تھی کہ خاتون کو دو دن کے اندر اندر طلاق مل گئی. ھمارے موجودہ عدالتی نظام میں اگر کوئی عورت خُلع کیلئے رِٹ دائر کرے تو سال دو سال گزارنا تو عام سی بات ھوتی لہذا اس قانون کو یہاں تو داد دینی چاھئیے کہ جو کام خاتون کو دو سال میں کرنا پڑتا، وہ دو دن میں ہو گیا.
بلاگ کی طوالت کے پیشِ نظر، مطمعِ نظر صرف اتنا ھے کہ یہ قانون چونکہ انسانی ھے لہذا بہتری کی گنجائش یقیناً ھوگی، واقعات کا مکمل تدارک بلاشبہ معاشرے کی بہتر تربیت سے ھی ممکن ھوگا، مگر خدارا اپنی ذاتی خود ساختہ مردانہ برتری کی خاطر ایک مثبت قدم کو یکسر رد مت کریں.
اس قوم نے تہذیب کی ابھی بہت سی منازل طے کرنی ھیں. اگر اسلاف کی غیرت کی فکر ھے تو یاد رکھئیے کہ مذھب عورت پر مرد کو امین بناتا ھے. اپنے گریبان میں جھانکئیے اور خود سے پوچھئیے کہ جن کے آپ امین ھیں، کیا اس امانت کی حفاظت کے تقاضے پورے کر رھے؟ مرد اگر ان تقاضوں کو پورا کریں تو نوبت جرگے معرکوں، کورٹ کچہریوں تک پہنچے گی ھی نہیں.
اور اگر بحیثیت مرد آپ نے اپنے فرائض مکمل سرانجام دئیے ھیں مگر خاتون مطمئن نہیں، تو براہِ کرم اپنی زندگی کو مشکل میں مت ڈالیں. اچھی طرح سے علیحدگی اختیار کریں اور اپنے مزاج کی خاتونِ خانہ تلاش کر کے عقد میں لیں. شکریہ

ضابطہ ھائے اخلاق برائے ضمنی انتخابات

یوں تو ھمارے ملک میں جنرل انتخابات پانچ سال کے وقفے سے ھونا طے پائے ھیں مگر یہ اتنا لمبا عرصہ ھے کہ اس دوران تمام میڈیا چینلز خبروں کو چھوڑ کر ٹی وی پر قد وغیرہ لمبا اور پیٹ وغیرہ چھوٹا کرنے والی ادویات بیچنا پڑ جائیں.

لہذا ھزاروں غریب صحافیوں اور ان کے محنت کش میڈیا مالکان کے گھر کا چولہا جلائے رکھنے کی خاطر حکومت، اپوزیشن و الیکشن کمیشن سارا سال ضمنی انتخابات کا دور جاری رکھتا ھے.

ھر ضمنی انتخاب کا اعلان گویا میڈیا کیلئے سوھانِ روح ھوتا ھے. تجزیہ کار اسے حق و باطل کا معرکہ قرار دیتے اور  پیشن گوئی کرتے کہ یہ الیکشن ملک کی سیاسی ساخت پر گہرے نقوش مرتب کرے گا. اگر اپوزیشن جیت گئی تو یہ موجودہ حکومت اور جمہوریت کیلئے زھرِ قاتل ھوگا اور اگر حکومت جیتی تو بھی کیا فائدہ کہ اسے جیتنے کیلئے کمپئین کرنی پڑی. اگر حکومت واقعی اتنی مقبول ھے جتنا وہ دعوٰی کرتی ھے تو پھر تو لوگ اسے ایوانِ وزیر ا عظم آکر ووٹ دے جائیں. کسی کو گھر گھر جانے کی کیا ضرورت؟

مصنف کو اس نقطہِ نگاہ نے کافی متاثر کیا ھے لہذا فِدوی نے سب کام چھوڑ چھاڑ (جس میں بکرے کا دن بھر کا بول و براز صاف کرنا بھی شامل ھے) اپنا کیبورڈ گریب کیا اور وہ تمام ضوابط احاطہِ تحریر میں لے آیا جو اس ملک میں ھارپِک* سے دھلی ٹائلٹ سیٹ جیسے صاف شفاف انتخابات یقینی بنا سکتا ھے:

اول: ایک پنج سالہ عبوری غیر سیاسی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں صرف ٹیکنوکریٹ شامل ھوں. صحافیوں، بیوروکریٹس، جرنیلوں پر مشتمل یہ عبوری حکومت کسی بھی ضمنی الیکشن کے اعلان کیساتھ ھی وزارتِ عظمٰی اور کابینہ کا چارج سنبھال لے. وزیرِ اعظم کو اس کے گھر سے باھر نکلنے پر پابندی لگا دی جائے اور اس سے ملاقاتوں کی اجازت بھی نہ ھو.

جو گھر والے اس کیساتھ رھنا چاھیں، وہ گھر کے اندر چلے جائیں، باقی باھر. بڑے دروازے پر اندر سے کُنڈی لگا کے پچھلے دروازے پر بڑی مونچھوں والے رینجرز بٹھا دیں. وہی جو واھگہ پر ھوتے ھیں.

دوئم: الیکشن والے حلقے میں تعلیم، صحت، اور انتظامیہ سے متعلق تمام عہدیداروں کو ھانک کر ایک بیرک میں بند کر دیا جائے اور ان اداروں کا چارج قریبی کور سے آئے فوجی سنبھال لیں. آخر کو اپنی فوج ھے، اور کب کام آئے گی.

سوئم: عبوری ڈیوٹی پر موجود فوجیوں میں سے صوم و صلوۃ کے پابند فوجیوں کو علیحدہ کر کے باقی جو بچیں، انہیں الیکشن ڈیوٹی کی ذمہ داریاں دی جائیں. ظاھر ھے اب روزہ رکھ کے پورا دن ایک کرسی پر بیٹھنا مشکل کام ھوتا.

 چہارم: حلقے میں صفائی کے محکمے کو چھٹیوں پر بھیج دیا جائے کیونکہ اکثر ضمنی انتخابات کے دنوں میں گلیوں اور نالیوں کی صفائی عروج پر ھوتی ھے.

پنجم: تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تاحکم ثانی روک دی جائیں، میٹرو بس بند کر دی جائے چاھے الیکشن جہاں مرضی ھو، تمام سرکاری ادارے کسی قسم کا اشتہار نہ دے سکیں چاھے وہ پی آئی اے کے کرائے کم کرنے کا ھی کیوں نہ ھو.

ششم: تمام سبسیڈیز ختم کر دی جائیں، بجلی، گیس کے بل پیداواری لاگت کی بنیاد پر بھیجے جائیں اور اگر علاقے میں کوئی بھی پانی کی نئی سپلائی لائن لگی ھو تو اس میں پانی روک دیاجائے.

ھفتم: اگر ملک میں قومی نوعیت کا کوئی منصوبہ جیسے پورٹ، ریل کی پٹڑی، ڈیم، پاور جنریشن پلانٹ بن رھا,ھو تو اسے فِل فور روک دیا جائے.

اگر ان تمام گزارشات پر عمل کر لیا جاٰے تو امید ھے کہ ملک میں ضمنی انتخابات میں شفافیت آسکے گی اور آپ بھی کہہ اٹھیں گے کہ “واہ الیکشن ھو تو ایسا: ھارپِک* سے دھلی ٹوائلٹ سِیٹ جیسا.”

* نوٹ: یہ بلاگ ھارپِک ٹوائلٹ کلینر کے تعاون سے لکھا گیا ھے. ھارپک جن کا دعوٰی ھے کہ ھم سا ھو تو ٹوائلٹ دھو کے دکھائے.

میٹرو کے ملازمت پیشہ مسافر حصه دوئم

بچپن میں جمعہ بازار جانے کا اتفاق ھوتا تو بازار کے باھر ایک مجمعہ لگا ھمیشہ دیکھتا.
ایک شخص کسی جادوئی تاثیر والی دوا کی مشہوری کر رھا ھوتا اور بہت سے لوگ اسے سن رھے ھوتے. تھوڑا بڑے ھوئے تو مجمع میں کھڑے ھونے کا اتفاق ھوا. کبھی کوئی شخص دانتوں کے تمام امراض کا علاج منجن بیچ رھا ھوتا تو کبھی تمام ظاھری و پوشیدہ امراض کی شفاء تیل کی ایک شیشی میں ھوتی. مجھے کراماتی تقریر اور کرشماتی تاثیر سے زیادہ جو بات ششدر کرتی وہ یہ کہ جب بیچنے والے کی بات مکمل ھو جاتی اور مجمع چھٹنا شروع ھوتا تو لگ بھگ آٹھ دس لوگ وہ دوا/پھکی/منجن خرید لیتے. میرا دل کرتا انہیں کہوں کہ بھائی ایسی کوئی دریافت ابھی تک نہیں ھوئی مگر پھر چُپ رھتا کہ جس شخص میں کھوج کی لگن ھی نہیں، اوہ کھائے کھسماں، جائے جہنماں.
وقت گزرتا رھا، ایسے بہت سے مشاھدات دیکھنے کو ملے جب لوگوں نے بغیر تحقیق اپنا سب کچھ لُٹا دیا. سونا دوگنا کرنا، سعودیہ کا ویزہ، لاٹری ٹکٹ، پیرامڈ سکیم اور ماضی قریب کا مضاربہ سکینڈل. ھر دھوکہ کھانے والے میں ایک ھی قدر مشترک دیکھی: بغیر تحقیق کئے بات کا یقین.
کل صبح چند احباب سے ملاقات کے دوران اسی اھم مسئلے کی نشاندہی ھوئی کہ ھم لوگ بغیر تحقیق کئے کیسے باتوں کا یقین کر لیتے اور اپنا انفرادی و اجتماعی نقصان کروا بیٹھتے ھیں.
ذھن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس مفروضے کو سوشل میڈیا کے نسبتاً پڑھے لکھے طبقے پر آزمایا جائے.
ٹیسٹ کے طور پر ایک کچا پکا سا بلاگ لکھا. جان بوجھ کر واقعاتی غلطی کی کہ بیس ھزار لوگ روزانہ پیسے لے کر میٹرو پر سفر کرتے رھتے.
میٹرو پراجیکٹ میں تقریباً چونسٹھ بسیں ھیں. اگر ھر بس میں ھر وقت سو مسافر موجود ھو تو یہ تعداد چونسٹھ سو بنتی.
اسی طرح تمام سٹیشنز پر بھی سو افراد فی سٹیشن لگا لیں تو کُل ملا کر دس ھزار افراد نہیں بنتے. لہذا بیس ھزار افراد کا میٹرو میں ایک ھی وقت پر موجود ھونا ممکنات میں سے نہیں.
مگر کیا ھے ناں کہ ھم اگر اتنا دماغ استعمال کرتے ھوتے تو تاج کمپنی اور ڈبل شاہ جیسے کردار ھماری جرائم کی تاریخ کا حصہ ھی کیسے بنتے؟
اُمید تھی کہ بہت سے لوگ اس کو ایک مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں دیں گے. مگر یہاں تو گنگا ھی اُلٹی بہتی ھے.
عام افراد کا تو کیا کہنا، یہاں رؤف کلاسرہ، اسد کھرل، اور عامر متین جیسے بھی بہتی گنگا میں ھاتھ دھونے کو تیار تھے.

نہ صرف یہ بلکہ ایک سیاسی نظرئیے والے فیس بُک پیج نے بھی اس بلاگ کو اپنے نظرئیے کے فروغ اور مخالف جماعت پر کیچڑ اچھالنے کیلئے فروغ دینا شروع کر دیا. لوگوں کے طرح طرح کے کمنٹس اس گھٹن کی جانب اشارہ کرتے ھیں جو ھمارے معاشرے میں پِنپ رھی ھے یا جسے بڑھاوا دینے کی بھرپور کوشش جاری ھے.

Asad Kharal reposting the blog

Asad Kharal reposting the blog

A political facebook page referring to fiction as facts

A political facebook page referring to fiction as facts

Rauf Klasra retweeting as interesting read.

Rauf Klasra retweeting as interesting read.

Facebook Account Referring to fiction as fact

Mr. Amir Mateen terming the blog “worth considering”

مقصد کچھ بھی ھو، کیا میں اور آپ اتنے بیو قوف ھیں کہ کوئی کچھ بھی بے پرکی اُڑا دے اور ھم لبیک کہنے کو تیار؟
کیا ایک سوچ سمجھ رکھنے والا انسان یہ سوچ سکتا کہ بیس ھزار بھرتیاں چپکے سے ھو سکتیں؟
کیا ایک دماغ مان سکتا کہ پورے شہر کو بیوقوف بنا دیا جائے اور کانوں کان خبر تک نہ ھو؟
کیا عدلیہ کے سینکڑوں ججوں کو جو یقیناً مختلف سیاسی سوچوں کے مالک ھوتے، ایک ریٹائرڈ جج اپنے گھر کے ڈرائنگ روم سے فون پر کنٹرول کر سکتا؟
آپ میں سے کتنے لوگوں کو دو ھزار تیرہ کے الیکشن کے دوران قائم مقام وزیر اعظم کا نام یاد ھے؟ اگر باقی سب ملوث تھے تو وہ کیوں نہیں؟ اور اگر وہ ملوث نہیں تھے تو ان کے پاس بہت سی معلومات تو ضرور ھو گی. کیا کسی صحافی نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی؟
مقصد یہاں کسی کی دل آزاری ھر گز نہیں. کہنا صرف یہ ھے کہ سوچیں. سوال پوچھیں. سوالوں کے جواب ڈھونڈیں. ایک کھلے دماغ کیساتھ. اپنی آنے والی نسل کو سوال پوچھنے کی جانب راغب کریں.
نہیں تو ایسے ھی بے ربط بلاگ پڑھتے اور شئیر کرتے عمر گزر جائے گی.
والسلام
نوٹ برائے صحافی حضرات: ھفتے کے پانچ دن میں دفتری امور میں مصروف ھوتا ھوں. انٹرویو اور “میٹرو کی اندر کی بات” جاننے کیلئے صرف ھفتہ اتوار کو رابطہ کریں. شکریہ

میٹرو کے ملازمت پیشہ مسافر

سنگِ بنیاد رکھنے کے تقریباً پندرہ ماہ بعد میٹرو بس سروس آج راولپنڈی اور آباد کے درمیان رواں دواں ھے. اس کی شان ميں اور اس کے خلاف بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ھے. میری کہانی بھی کچھ مختلف نہیں. جانتا ھوں کہ وقتی آہ و بکاء کے بعد اس پر بھی مٹی پڑ جائے گی، مگر مجھے اس سے غرض نہیں. میں نے اس مٹی کا قرض ادا کرنا ھے اور اپنے جی کا بوجھ ھلکا کرنا.
میٹرو منصوبے کی تعمیر کے دوران میں اس کا بہت حامی رھا. حالانکہ متمول گھرانے سے تعلق کے باعث مجھے اس کے ھونے یا نہ ھونے سے فرق نہ پڑتا تھا مگر اپنی پسند کی حکومتی جماعت کے ھر کام کی تعریف کرنا بھی تو ضروری ھوتا ھے. لہذا دلجمعی سے یہ فریضہ سرانجام دیا. وقت گزرتا رھا اور میٹرو کے افتتاح کا وقت سر آن پہنچا. منصوبے کے آخری دنوں میں کچھ سوشل میڈیا کے نامی گرامی سیاسی  احباب نے ملاقات کیلئے بلایا اور یوں ملاقاتوں کا یہ سلسہ چل نکلا. موضوعِ گفتگو میٹرو بس ھی رھتی. یوں لگتا کہ میٹرو بس نہیں کوئی “گیدڑ سنگھی” ھے جو کہ جڑواں شہریوں کے باسیوں کے ھر درد کا مداوا ھے. میں ششدر رہ جاتا جب بظاھر معقول نظر آنے والے صاحبان بھی بلیو ایریا کے منظر کو سنگاپور اور دبئی سے تشبیہہ دینا شروع کر دیتے. انجنئیرنگ کے شعبہ سے تعلق اور کچھ عرصہ سے ریسرچ سے وابسطہ ھونے کے باعث جب احباب سے اس منصوبے کی سوشل ایپلیکیلیبلٹی کے بارے میں سوال کرتا تو وہ اپلیکیلیبیلیٹی کے ھِجے ٹھیک کروانا شروع کر دیتے. خیر افتتاح کا دن آن پہنچا اور میں بھی جذبات کی رو میں بہتے ھوئے میٹرو کے نعرے لگانا شروع ھو گیا.
گھر کے نزدیک ھونے کے باعث تقریباً روزانہ ھی میٹرو کو دیکھنے کا اتفاق ھوتا ھے اور تقریباً روزانہ ھی کسی نہ کسی بھری ھوئی میٹرو بس کی تصویر کھینچنا عادت سی بن گئی کیونکہ میٹرو کے مخالفین کا جی بھی تو جلانا ھوتا ھے. بظاھر عام نظر آنے والی انہی تصاویر نے ھی میرے اندر کے متجسس شخص کو جگا دیا. ایک دن جب ان تمام تصاویر کو فون سے لیپ ٹاپ میں منتقل کر رھا تھا تو ایک حیرت انگیز انکشاف ھوا. حالانکہ تمام تصاویر مختلف سٹیشنز پر مختلف اوقات میں لی گئی تھیں مگر بسوں میں موجود بہت سے افراد ایک جیسے جثے کے لگ رھے تھے. پہلے تو میں اسے وہم سمجھا مگر تجسس کا مارا، تصاویر کو غور سے دیکھنا شروع کر دیا. بسوں کے مسافروں کے نہ صرف جثے ایک جیسے تھے بلکہ ان کی شکلیں بھی بہت ملتی جلتی تھیں.
بروز جمعرات دفتر سے آدھے دن کی چھٹی لی اور میٹرو میں براجمان ھوا. بس سٹیشنوں پر رش کافی زیادہ تھا. حیرت ناک بات یہ کہ انہی سٹیشنوں کے پاس پہلے ویگنیں اور سوزوکیاں چلتی تھیں مگر کبھی دس پندرہ سے زیادہ افراد تو کھڑے نہ دیکھے تھے. مگر یہاں میٹرو کے سٹیشنز پر تو یوں لگتا جیسے شیرینی بٹ رھی ھے. فیض آباد سٹیشن پر پہنچا تو نیچے فیض آباد اڈے پر اتنے مسافر نہ تھے جتنے اوپر سٹیشن پر. مجھے بس میں کھڑے تقریباً پندرہ منٹ ھو چکے تھے اور بس میں تِل دھرنے کو بھی جگہ نہ بچی تھی. میں نے بس میں موجود مسافروں کو دیکھنا شروع کیا. تقریباً پچاس یا ساٹھ افراد میں سے کوئی تین یا چار طلباء لگ رھے تھے، کچھ اتنے ھی دفتری ملازم. باقی تمام افراد شلوار قمیص میں ملبوس اور اُکتائے ھوئے چہروں کیساتھ.
جو آٹھ دس افراد مختلف نظر آ رھے تھے، وہ ھر شے کو بڑے غور سے دیکھ رھے اور ارد گرد کے مناظر سے لطف اندوز ھو رھے. مگر باقی کے تقریباً پچاس مرد ایسے کھڑے تھے جیسے کچھ بھی نیا نہ ھو. ھر سٹاپ پر کچھ لوگ اتر جاتے اور کچھ لوگ بس پر سوار ھو جاتے. یوں تقریباً پچاس منٹ میں صدر پہنچا جہاں ایک خوبصورت فوڈ سٹریٹ بھی بنائی گئی ھے. موقع ملا تو اس کا چکر ضرور لگائیے گا. صدر سے اسلام آباد واپسی کا سفر شروع کیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رھی جب ھر سٹاپ پر کم وبیش وہی افراد دوبارہ بیٹھ رھے ھوتے جو سفر کے دوران بس سے اترے تھے. واپسی پر میں سامنے سے  آنے والی بسوں میں بھی جھانکتا رھا. ھر دوسری بس میں کوئی شناسا سا چہرہ نظر آجاتا. میری تو جیسے پیروں سے زمین ھی کسی نے سرکا دی ھو.
خیر جیسے تیسے سنٹارس کے سٹاپ پر بس سے اترا، پارکنگ میں کھڑی گاڑی پکڑی اور باقی کا دن اپنے دفتر میں گزارا. شام کو اپنی پارٹی کے چیدہ چیدہ فراد کو فون ملائے اور چائے خانہ پر ملاقات طے ھوئی. دفتر سے فارغ ھو کر وہاں پہنچا تو سب احباب پہلے ہی وہاں موجود اور خوش گپیوں میں مصروف تھے. سلام دعا کے بعد فوراً ھی میں نے دن کے سفر اور اپنے مشاھدے کے بارے میں بتانا شروع کیا. ابھی میری بست مکمل بھی نہ ھوئی تھی کہ ان دوستوں نے ھنسنا شروع کر دیا. ھمارے ھر دل عزیز اور عمر میں سب سے بڑے ایک بٹ صاحب کچھ یوں گویا ھوئے:”او یار تینوں اج پتا لگیا؟”.
پھر انہوں نے بتانا شروع کیا کہ میٹرو کی تعمیر کے دوران ھی پتا چل چکا تھا کہ اس کی جڑوان شہروں میں بالکل ضرورت نہیں. متوقع مسافروں کی تعداد سے تو میٹرو کے ھر سٹیشن پر موجود خاکروبوں کی تنخواہ بھی پوری نہیں کی جا سکتی. مگر چونکہ یہ منصوبہ بلدیاتی انتخابات کیلئے اھم اور دوسرے مشکل کاموں کی بنسبت مکمل کرنا آسان تھا، لہذا اس کا یہ توڑنکالا گیا کہ بیس ھزار “جعلی مسافر” بھرتی کئے گئے ھیں. ان میں سے آدھے مسافروں کی تنخواہ حکومت ڈائریکٹ سبسڈی کی صورت میں دے رھی ھے جبکہ باقی آدھے مسافروں کیلئے حکومت نے مقامی لیگی سیاستدانوں کی ڈیوٹی لگائی ھے. ان سیاستدانوں نے بھی یہ بوجھ خود نہیں اٹھایا ھوا بلکہ راشی پٹواریوں، جعلساز دکانداروں اور اس قماش کے دوسرے افراد سے پیسہ اکٹھا کر رھے ھیں.
ایک شخص کو روزانہ کا تین سو روپیہ ملتا اور اسے تقریباً بارہ گھنٹے میٹرو بس یا سٹیشن پر رھنا پڑتا. معاملات کو مذید شفاف رکھنے کیلئے ایسے “لائف ٹائم کارڈ” کا اجراء کیا گیا ھے تاکہ عام لوگوں کو یہ شک نہ ھو کہ کوئی شخص بغیر ٹکٹ کے بس پر سفر کر رھا.
نہ صرف یہ، بلکہ ایسے تمام افراد کی بھرتی سیاسی وابسطگی دیکھ کر کی گئی ھے جس کیلئے ایک اھم سیاسی شخصیت کو پراجیکٹ میں ایک بظاھر اھم ذمہ داری بھی سونپی گئی. ایسے کسی بھی مسافر سے سوال میڑو کی بابت سوال کیا جائے تو وہ فوراً ائیر کنڈیشن بس، برقی زینے اور اس طرح کی ھر شے کے فوائد گنوانا شروع کر دیتا ھے.
یہ سب سن کر میرے تو جیسے اوسان خطا ھو گئے. خیر ان کے سامنے خود کو سمبھالا اور گھر کی راہ لی. گھر پہنچ کر لاھور، گجرانوالہ اور گجرات سے تعلق رکھنے والے لیگی دوستوں کو فون ملانا شروع کیا اور پنڈی میٹرو کے بارے میں چشم دید اور چشم کُشا  حقائق بیان کئے. میری حیرت کی انتہا نہ رھی کہ اکثر کو یہ بات پہلے سے پتا تھی. ایک صاحب نے ھنس کر یہاں تک کہا کہ آپکا کیا خیال ھے سال کی ایک ارب سبسڈی کہاں خرچ ھوتی ھے ابھی تک لاھور میں؟ دو تین ایسے دوست بھی تھے جنہیں یہ بات پتا نہ تھی مگر انہوں نے بھی آنکھیں بند رکھنے کا مشورہ ھی دیا.
کل رات بس یہی سوچتا رھا:
20,000 افراد
300 روپیہ فی کس روزانہ
60,00,000 کُل خرچ روزانہ
180,000,000 ماہانہ
2,160,000,000 سالانہ
یعنی پنڈی میٹرو پر تقریباً سوا دو ارب کی “سبسڈی” دی جائے گی جس میں سے آدھا خزانے سے اور باقی کا آدھا امیر سپورٹرز سے اکٹھا کیا جائے گا.
میں ثبوت کے طور پر تصاویر لگا سکتا ھوں مگر یہ کام میں اسلام آباد کے قاری پر چھوڑتا ھوں کہ وہ خود میٹرو کا وزٹ کرے اور ان “تنخواہ دار مسافروں” سے ملے جو اس پراجیکٹ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائیں گے، جو اس کے راستے کو صراط الجنتہ اور جو اس کے سٹیشنز کو صحراء میں نخلستان قرار دیں گے.
مگر کیا بھوکے کو روٹی ملے گی؟
کیا اندھے کو نوکری ملے گی؟
کیا بیمار کو دوا ملے گی؟
کیا ظالم کو سزا ملے گی؟
ان سوالوں کے جواب کا متلاشی میں بھی ھوں، اور امید ھے کہ آپ بھی ھوں گے.